28 مارچ 2012 - 19:30

سپریم کورٹ نے کارروائی مؤخر کرنے کے حوالے سے وزیراعظم کی درخواست قبول نہیں کی، عدالت نے قرار دیا کہ بغیر ایڈوائس سوئس حکام کو خط لکھنے کے حکم پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔

ابنا: جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے سات رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت میں وزیرا عظم کا جواب پڑھ کر سنایا۔ جس میں کہا گیا کہ توہین عدالت کا معاملہ طے ہونے تک عملدرآمد سے متعلق نیا حکم مؤخر کر دیا جائے۔ جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دئیے کہ وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ان کے ماضی کے طرز عمل پر ہے، وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ایڈوائس کی وجہ سے خط نہیں لکھا، اب ہم نے ان کو ایڈوائس کے بغیر خط لکھنے کے لیے کہا ہے۔
 
جسٹس نے اعجاز افضل نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ انہیں گمراہ کیا گیا، اب ہم نے وزیراعظم کو عملدرآمد کے لیے گائیڈ لائن دی ہے، لٰہذا عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہر حال میں ہونا ہے، کیا وزیراعظم ایک اور توہین عدالت کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اُن کےنزدیک ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ کیا عدالتی حکم پر عملدرآمد ہونا ممکن ہے۔ سپریم کورٹ نے کارروائی مؤخر کرنے کے حوالے سے وزیراعظم کی درخواست قبول نہیں کی، عدالت نے قرار دیا کہ بغیر ایڈوائس سوئس حکام کو خط لکھنے کے حکم پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا، جو عملدرآمد نہ کرنے کے مترادف ہے۔
.......

/169